(جب سے بادشاہ بنے ہو غریبوں کو تو دیکھتے ہی نہیں

 

                                         ‏جنگل میں شیرنی کو رات کے اندھیرے میں کسی نے چھیڑ دیا۔ اب پتہ نہ چلے کہ کس کی حرکت ہے۔ بندر نے شیر کو کہا کہ آپ اعلان کرواؤ کہ کون اتنا دلیر ہے جس نے شیرنی کو چھیڑا وہ بتاۓ تا کہ ہم اس بہادر جانور کو جنگل کا بادشاہ بنا دیں گے۔ بندر کی گیدڑ سے ان بن تھی بندر نے گیدڑ کو بولا تم جاؤ ‏اور بادشاہ کو بولو کہ میں نے شیرنی کو چھیڑا ہے۔ یوں وہ تمھیں بادشاہ بنا دے گا۔ گیدڑ بندر کی باتوں میں آ گیا اور اکڑتا ہوا شیر کے پاس گیا اور بولا اوۓ میں نے شیرنی کو چھیڑا تھا۔ شیر نے گیدڑ کو پکڑا اور باندھ دیا اور جنگل کے سب جانوروں کو بولا کہ اس کی تشریف پر سو سو جوتے مارو۔ سب ‏جوتے مارنے لگے جب بندر کی باری آئی اور جوں ہی بندر نے جوتے مارنے شروع کئے گیدڑ نے غصے سے منہ دوسری طرف گھما لیا، یہ دیکھ کر بندر بولا، 'کیا بات ہے جناب جدوں دے بادشاہ بنے او غریباں نو تے ویکھدے وی نئ' (جب سے بادشاہ بنے ہو غریبوں کو تو دیکھتے ہی نہیں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دو سو اور تین سو بجلی کے یونٹ فری دینے والوں جب سے اپنے اپنے عہدوں پر فائز ہوئے ہو ہماری طرف دیکھ بھی نہیں رہے ، کب سے دو گے بھائی یہ پیکیج ۔۔۔۔۔؟؟؟؟😐 profitablegatecpm.
com/8a5a1cc1f12e30df33f340a8d3d1c3c6/invoke.js

Comments

Popular Posts